ابنا: العالم کی رپورٹ کے مطابق ،کویت میں چھپنے والے ایک روز نامے قبس نے جمعے کے دن لکھا:تین ملک ،سعودی عرب ، امارات اور بحرین اس کوشش میں ہیں کہ قطر کو خلیج فارس تعاون کونسل کے سربراہوں کے کسی بھی اجلاس میں دعوت نہ دی جائے۔القبس نے مزید لکھا ہے: قطر پر ایک پابندی اس کے ہوئی جہازوں پر ہے کہ وہ سعودی عرب امارات اور بحرین کی زمین کے اوپر سے پرواز نہیں کر سکتے اور اس پابندی سے دوحہ کو بہت سا نقصان ہو گا۔یہ ایسی صورت میں ہوا ہے کہ جب حکومت مصر نے بھی قطر کے خلاف پابندیوں کا خیر مقدم کیا ہے اور حال ہی میں اعلان کیا ہے قطر پر پابندی دوحہ کی سیاست کی اصلاح کی جانب ایک قدم ہو سکتا ہے ۔نیوزنور کے مطابق دوسرے خبری ذرائع نے بھی اعلان کیا ہے کہ :سعودیہ کے ریڈیو اور ٹی وی کے ادارے نے بھی اعلان کیا ہے کہ سفیروں کو واپس بلانے کے بعد سعودیہ بھی قطر کے الجزیرہ ٹی وی چینل کے دفاتر کو سعودی عرب میں بند کرنے کے درپے ہے۔ان ذرائع نے مزید کہا:سعودی عرب میں مربوطہ مراکز جلد ہی الجزیرہ کے کام کی اجازت کو منسوخ کرنے والے ہیں اور پیش گوئی کی جاتی ہے کہ امارات اور بحرین میں بھی الجزیرہ کے کام پر روک لگا دی جائے گی۔قطر کے سعودی عرب ،امارات اور بحرین کے ساتھ روابط میں تناو میں ان تین ملکوں کے دوحہ سے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کے بعد شدت آگئی۔امارات ، بحرین اور سعودی عرب نے قطر پر ان ملکوں کے اندرونی امور میں مداخلت کا الزام لگایا ہے جس کے خلاف قطر والوں نے شدید رد عمل دکھایا ہے ۔دو فریقوں کا اختلاف مصر میں اخوان المسلمین کی حمایت اور خلیج فارس کونسل کے دائرے سے باہر رہ کر قطر کی یک طرفہ سیاست کے بارے میں ہے۔ سعودی اور بحرین اور امارات ، قطر کی گروہ اخوان المسلمین کی حمایت سے ناراض ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے لیے ان کے درمیان ثالثی بھی اب تک نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
8 مارچ 2014 - 20:30
News ID: 512482
اخباری ذرائع نے اعلان کیا ہے سعودی عرب ، امارات اور بحرین نے خود کو قطر پر دوسرے مرحلے کی پابندیاں عاید کرنے کے لیے آمادہ کر لیا ہے ۔